بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کے مطابق، یہ رپورٹ، جو جدید امریکی ڈیفنس سسٹمز، لاجسٹک انفراسٹرکچر اور فضائیہ سے متعلق سازوسامان کی تباہی پر مشتمل ہے، نہ صرف میدانِ جنگ کی صورت حال کو واضح کرتی ہے بلکہ جنگ جاری رکھنے کے لئے امریکی اسٹراٹیجک صلاحیت کے نئے افق کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔
حصۂ دوئم:
3۔ فضائی طاقت کو دھچکا = طیارے اور ڈرون زمین پر تباہ
امریکیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ایک بڑا حصہ فضائی اثاثوں کی تباہی پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ۱۱ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز (زمین پرہی تباہ کئے گئے؛ 17 جاسوسی اور آپریشنل ڈرون (جن میں 8 ابھی ڈبہ بند تھے)، ایک ایف-15 طیارہ، ایک سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ، اور 8 ایندھن رساں طیارے (ریفیولنگ ایئرٹینکرز) تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ ایم کیو-9 ڈرونز کے چھ ہینگرز، 5 جنگی طیاروں کے ہینگرز، اور 4 طیاروں کی پناہ گاہیں (شیڈز یا شیلٹرز) بھی تباہ کر دی گئیں۔ یہ عمل امریکی فضائی طاقت کو زمینی اڈوں پر ہی ختم کرنے کی مربوط مہم کو عیاں کرتا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع نے اردن کے امریکی اڈوں میں مضبوط پناہ گاہوں میں موجود ایف-15 طیاروں کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر گواہی دیتی ہیں کہ اردن کے "ملک فیصل" ایئربیس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں کم از کم ایک ایف-15-ای امریکی طیارہ اپنے ہینگر میں تباہ ہؤا۔
4۔ امریکی جنگی صلاحیت پر ایرانی حملوں کے اسٹراٹیجک اثرات
ان نقصانات کے گہرے اسٹراٹیجک نتائج ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:
الف۔ جارحانہ صلاحیت کا کمزور پڑنا:
اتنی بڑی تعداد میں طیاروں، ڈرونز اور ریفیولنگ ایئر ٹینکرز کی تباہی سے امریکہ وسیع اور مستقل فضائی حملے کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے؛ خاص طور پر 8 ایندھن رساں طیاروں کی تباہی نے مستقبل کے فضائی آپریشنز کو شدت سے محدود کر دیا ہے۔
ب۔ ایئر ڈیفنس میں خلا:
پیٹریاٹ سسٹمز اور طویل فاصلے کے ریڈارز کی بڑے پیمانے پر تباہی نے امریکی اڈوں کی فضائی کوریج میں شدید سیکیورٹی خلا پیدا کر دیا ہے، جس سے وہ مستقبل کے ایرانی حملوں کے سامنے بالکل نہتے ہو گئے ہیں۔
ج۔ جنگی اخراجات میں اضافہ:
پینٹاگون نے 22 جولائی تک (پندرہ روزہ جنگ کے دوران) ایران کے خلاف مہم پر 37.5 بلین ڈالر خرچ کئے ہیں اور کانگریس سے اضافی فنڈز مانگے ہیں؛ پیٹریاٹ، تھاڈ، ایف-15، اور ایم کیو-9 جیسے مہنگے آلات کی تباہی ان اخراجات میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔
د۔ انسانی جانوں کا نقصان:
امریکی اعتراف کے مطابق اب تک 17! امریکی فوجی ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ بریگیڈیئر محبی کے مطابق مفاہمت نامے کی خلاف ورزی کے بعد کم از کم 200 امریکی دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ جانی نقصان، اسٹراٹیجک نقصانات کے ساتھ مل کر، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون پر اپنی جنگی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کا دباؤ بڑھا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: یداللہ ربیعی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ